تازہ غزل
یاد کا پھول کِھلا تو تری مہکار ملی
نیند ٹوٹی تو مرے خواب کو رفتار ملی
اپنے بچوں کو سکھاوں گا غزل کہنا میں
جس طرح فصلِ محبت، مجھے تیار ملی
اس کے جاتے ہی مجھے نیند میسر آئی
دو بجے تک تو جگاتی تھی مجھے نارملی
وہ کبھی وقتِ مقرر پہ تو آیا ہی نہیں
یوں سمجھ ، رات گئے صبح کی اخبار ملی
عہدِ ماضی کے خد و خال کی صورت احمد
آئنے سے وہ نکل کر مجھے اک بار ملی
احمد زوہیب
Comments
Post a Comment